چنتامنی:30 /اگست(سید اسلم پاشا/ایس او نیوز) ڈیلوری کے لئے چنتامنی سرکاری اسپتال میں داخل ایک خاتون کا ڈاکٹروں نے ٹھیک طرح سے ٹریٹمنٹ نہ کرنے کے نتیجے میں خاتون نے ایمبولینس میں ہی بچے کو جنم دے دیا، جس کی اطلاع ملتے ہی عوام بھڑک اُٹھے اور سرکاری اسپتال کا گھیرائو کردیا۔ یہ واقعہ آج بدھ کو پیش آیا جب خاتون کو ایمبولنس پر کولار لے جایا جارہا تھا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق تعلقہ سدپلی گرام کی وینکٹ رتنماآج علی الصبح ڈیلوری کیلئے چنتامنی کے سرکاری اسپتال میں داخل ہوئی تھی اُس وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سوتی نےزچگی کے لئے آئی ہوئی خاتون کی جانچ کے لئے ایک نرس کو بھیج دیا اور وہ خود اپنے چمبر سے باہر نہیں نکلی۔
بتایا گیا ہے کہ نرس نے خاتون سے بات چیت کرنے کے بعد اُسے کولار اسپتال جانے کے لئے کہا اور خاتون کو بتایا کہ اُس کی ڈیلیوری اس اسپتال میں ممکن نہیں ہے، جب متعلقہ خاتون کو ایمبولنس میں ڈال کر کولار لے جایا جارہا تھا تو راستے میں ہی خاتون نے بچے کو جنم دے دیا۔ ذرائع کے مطابق بالکل نارمل حالت میں خاتون نے بچہ جنا اور اب ماں اور بچہ دونوں صحیح سلامت ہیں۔
ایمبولینس میں ہی ڈیلوری ہوجانے کی خبر چنتامنی شہر میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی تو کئی تنظیموں کے کارکنان سرکاری اسپتال پہنچ کر گھیراؤ کیا اور ڈاکٹروں کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ یہاں زچگی کیلئے 5تا 6 ہزار روپئے رشوت لیا جاتا ہے اگر رشوت دینے سے انکار کرتے ہیں تو اسپتال کے ڈاکٹر خاتون کو دوسرے اسپتال جانے کی صلاح دیتے ہیں اور یہاں زچگی نہیں کرائی جاتی عوام نے زور دیا کہ فوری طور پر اس کی روک تھام نہیں کی گئی تو عوام کو راستوں پر اُترنا پڑے گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر جینتی جب احتجاجیوں سے گفتگو کرنے پہنچی تو احتجاجی ڈاکٹر جینتی پر ہی برس پڑے اورمطالبہ کیا کہ سرکاری اسپتال میں غریب حاملہ خواتین کو صحیح ٹریٹمنٹ دیا جائے۔ کافی گہماگہمی کے بعد بالاخڑ ڈاکٹر جینتی کی یقین دھانی کے بعد کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا، احتجاج ختم کیا گیا۔